Posts

Showing posts from May, 2019

ایک پرانی بینچ کا احوال

کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ کان ہوتے ہوں گے تو منہ اور زبان بھی ہوتی ہوگی۔ شائد یہی سوچ کر کسی شاعر نے کہا تھا،   راستہ دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیں   گونگے پتھر بھی سوالات کرینگے تجھ سے  ٹھوکر لگتی ہے تو ہمارا دھیان فوری طور پر اپنے پیر کے انگوٹھے اور انگلی کی طرف جاتا ہے، جس سے خون رس رہا ہوتا ہے، لیکن ہم اس پتھر کی نہیں سنتے، جو کہہ رہا ہوتا ہے که راستے میں پتھر، کانٹے اور نہ جانے کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں، جس سے آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ذرا دیکھ کر چلنا چاہئیے۔ غور کریں تو پائیں گے که  قدرتی نظام، ماحول اور ہمارے آس پاس کی چیزیں ہمیں کچھ کہنا چاہتی ہیں، لیکن ہم اکثر اسے ان سنا کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر وہ ہم سے کچھ کہتے ہیں تو کیا کہتے ہیں، یقیناً یہ آواز باہر سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر سے ہی سننی پڑیں گی۔ چلیے اسی بہانے کچھ چیزوں سے رو برو ہوتے ہیں۔۔۔۔ باغیچے کے کونے میں پڑی ایک پرانی بینچ چل جھوٹی۔۔۔ بھلا اسے میری آواز کیونکر سنائی دیگی۔ وہ بولتا ہی جا رہا تھا۔ بلکہ سامنے بیٹھی اپنی نئی محبوبہ سے ڈھیر سارے وعدے کر رہا تھا۔ لڑکی کو و...